بچے خراب
کیوں رہے ہیں ؟؟
تقریباً ہر والدین کی یہی شکایت رہتی ہے کہ ہمارا بچہ نماز نہیں پڑھتا، نماز میں کام چوری کرتے ہیں، بچیاں دن بہ دن ماڈرن ہوتی جا رہی ہیں۔ ان کا آدھا جسم کپڑے میں اور آدھا جسم کپڑے کے باہر ہوتا ہے۔
معاشرے میں چرس، سگریٹ نوشی، اور برے کام عام ہوتے جا رہے ہیں، لیکن اتنے درس، تدریس کے بعد بھی یہ برے کام رکنے کے بجائے پھیلتے جا رہے ہیں۔
آخر کیوں؟
پتہ ہے ہمارا مسئلہ کیا ہے؟ ہم بچپن سے ہی بچے کو ڈانٹ ڈپٹ کر زبردستی نماز پڑھواتے رہے، زبردستی نقاب کرواتے رہے، زبردستی برے کاموں سے روکا گیا، لیکن آج تک کسی نے یہ نہیں سکھایا کہ "پردہ آخر ضروری کیوں ہے؟
نماز کیوں پڑھنا ضروری ہے؟
برے کام سے روکنا ضروری کیوں ہے؟"
یقین جانیں، ہم نے اپنی نوجوان نسلوں کو محض جنت اور جہنم سے ڈرا کر اسلام کو فالو کرنے پر مجبور کیا ہوا ہے۔ لیکن جس دن ان کے دل سے خوف نکل جاتا ہے، وہ ہر برے کام کر گزرتے ہیں اور اس کے نام کے علاؤہ باقی سب کام مشرکوں سی ہوتی ہے ۔
وجہ؟
وہ ڈر تھا جو آپ نے ان کے دل میں بھر دیا تھا اب ختم ہو چکا ہے ۔
عزیز دوستو !
بچے کو نماز پڑھوانے سے پہلے اسے نماز کی اہمیت تو بتائیں، اسے نماز پڑھنا واجب سے ہٹ کر ضروری کیوں ہے، وہ تو بتائیں۔
اسی طرح گھر کی بچی کو پردے کی اہمیت تو بتائیں کہ پردہ کرنا کیوں ضروری ہے۔
پردہ کرنے سے کیا ہوتا ہے، اور نہ کرنے کا نتیجہ کیا نکلتا ہے ۔
پردے سے زیادہ، پردے میں موجود لڑکی کی اہمیت کو تو بتائیں۔
پھر دیکھنا، آپ اس کا پردہ اتار بھی دیں تو وہ پردے کے لیے آپ سے لڑے گی۔
ہم نے مسجد میں بچوں کو لے جانا چھوڑ دیا کیونکہ ہمارا ماننا ہے بچے مسجد میں جائیں گے تو مسجد ناپاک ہو جائے گی۔
قرآن کو ہاتھ لگانے تک نہیں دیا کیونکہ گناہ آتا ہے،
نتیجہ بچہ جیسے جیسے بڑا ہوتا گیا، وہ مسجد اور قرآن سے دور ہوتا گیا۔
عزیزاً!
ہمیں ہمیشہ سے غلط دین پڑھایا گیا، وہ دین پڑھایا یا سکھایا گیا جس میں بس خوف اور ڈر ہے۔
ایک طرف جنت اور دوسری طرف جہنم، اور جنت سے زیادہ جہنم کا خوف، ڈر اور اسی سزا میں اس قدر پھنسا دیا کہ بچے نے نعوذباللہ خدا کو رحمان کم اور بے رحم زیادہ سمجھنے لگا ۔
ہر چیز میں اس قدر ممانعت رکھی گئی کہ بچے کو یہ دین کم ایک جنگل زیادہ لگنے لگے ۔
پھر آپ کہتے ہیں کہ بچے بے نمازی ہو رہے ہیں، خدا سے دور ہوتے جا رہے ہیں، روزہ نہیں رکھتے، ملحد ہوتے جا رہے ہیں۔
ارے کیوں نہیں ہوں گے؟؟
آپ انہیں وہ دین سکھاؤ جہاں ہر دین رحمت ہے، محبت ہے، بھائی چارہ ہے، اور سب سے بڑھ کر نعمتیں ہیں۔ مسجد کو جیل خانہ نہ بنا دو بلکہ دنیا میں مسجد کو جنت بنا دیں ، بچہ ہر کام چھوڑ کر مسجد جائیں گے ۔
قرآن مجید پر اس قدر پابندیاں نہ لگاؤ کہ وہ اسے چھونا بھی گناہ سمجھیں، بلکہ اس قدر محبت پیدا کرو، جستجو پیدا کرو کہ وہ قرآن مجید پر ریسرچ کریں۔
غلطی بچے سے نہیں، ہم سے ہو رہی ہے۔
اپنے دل پر ہاتھ رکھو، سارے سوالوں کا جواب مل جائے گا۔
تھوڑا نہیں ، بہت سوچیں ۔
تحریر نگار:
طہٰ علی تابش بلتستانی
13 مارچ، 2026
![]() |
| WhatsApp channel |

0 Comments