" تعلیم کی قدر دانی "
موجودہ چیف سیکرٹری گلگت بلتستان جناب محی الدین احمد وانی صاحب نے جیسے ہی زمہ داریاں سنبھالے پورے گلگت بلتستان کے سرکاری تعلیمی اداروں میں ایک مثبت تبدیلیاں دیکھنے کو مل رہا ہے ، ڈپٹی کمشنر ، اسسٹنٹ کمشنر روزانہ کسی نہ کسی سکول کا وزٹ کرتے نظر آرہے ہیں ۔
یہ جان کر بہت خوشی محسوس ہورہا ہے کہ چیف سیکریٹری جی. بی. نے سرکاری سکولوں کے بہترین کار کردگی کے حامل اساتذہ کی حوصلہ افزائی کا فیصلہ کیا ہے ۔
ایسے مثبت کام پہلے بھی ہوتے رہے ہیں لیکن اس بار جو خاص بات ہے وہ وہ نہایت موثر اور قابل قدر ہے ۔
پہلے محکمانہ طور پر سفارشات پیش کی جاتی تھیں جس میں " جسکی لاٹھی اسی کی بھینس ' والی ضرب المثل کی اطلاق کو روکنا آسان نہیں تھا ۔
اب کی بار براہ راست کمیونیٹی سے رائے مانگنا ایک جمھوری سوچ اور ایک عوام دوستی کی بین دلیل ہے ۔
راقم کو 25 سالوں سے کمیونیٹی کی جانب سے تعلیمی شعبے میں تھوڑا بہت کام کرنے کا تجربہ حاصل ہے۔
راقم کا گاؤں 1996/97 میں بد نام زمانہ کرگل جنگ میں تباہ ہوکر لوگ نقل مکانی پہ مجبور ہوئے اور ایک کثیر تعداد اس وقت سندوس میں آباد ہیں جہاں پانی ، بجلی ، صحت کے گونا گوں مسائل ہیں وہاں تعلیمی شعبے میں بھی انتہائے ناگفتہ بہہ حالات ہیں ۔
کرگل جنگ کے باعث ہمارے جائدادیں ، اور ہر قسم کے زریعہ معاش تباہ ہوکر روزانہ کے مزدوری واحد زریعہ بن کر رہ گئے بد قسمتی سے چھے مہینے سے زیادہ مزدوری بہت مشکل سے ملتے ہیں ان حالات میں بچوں کو پرائیوٹ تعلیمی اداروں میں بھیجنے کا سوچ بھی نہیں سکتے ۔
اسی لئے ہم گورنمنٹ کے تعلیمی اداروں پہ ہی انحصار کرتے ہیں جبکہ گورنمنٹ سکٹر میں انتظامی گرفت ہمیشہ کمزور رہی ہے جس کے باعث معیاری تعلیم محض خواب کے سواء کچھ نہیں ۔
تقریبا 2003 میں ہماری کوششوں سے محکمہ تعلیم نے ایک ٹیچر ، ایک کرسی اور ایک ٹیبل دئیے اور کمیونٹی نے بلڈینگ کا خرچہ خود برداشت کی ۔
یہ سلسلہ وقت کے ساتھ ساتھ بہتری کی جانب بڑھتا رہا پھر آخر کار تین چار ٹیچرز ، فرنیچرز ، اور دیگر ضروری اشیاء بھی ملنے لگے لیکن عمارت کی عدم موجودگی میں بار بار عمارت بدلتا رہا ۔
ہماری کمیونیٹی نے منتخب عوامی نمائندوں سے بھی بارہا عمارت کی تعمیر کا مطالبہ کیا لیکن سرکاری طے شدہ معاوضہ مارکیٹ ریٹ سے بہت کم ہونے کے باعث جگہ نہیں ملتا تھا ۔
درجن سے زائد ٹیچرز آتے جاتے رہے کئی نامی گرامی ہیڈ ٹیچرز بھی آئے لیکن روایتی انداز سے ہٹ کر کوئی کار کردہ گی دیکھنے کو نہیں ملا ۔
یہ ہماری خوش قسمتی تھی کہ نائلہ رضوی نے بحیثیت ہیڈ ٹیچر زمہ داریاں سنبھالی تو انہوں نے درجہ ذیل اقدامات اٹھائیں ۔
1 ۔ سب سے پہلے لوگوں کی معاشی حالت اور درپیش مسائل کو جاننے کیلئے والدین سے ملاقات کرنے کا ایک سلسلہ شروع کیا ۔
2 ۔ پھر پی ٹی اے کو فعال کرنے کی جانب متوجہ ہوئی ۔
3 ۔ انہوں نے سکول میں مختلف قسم کے تقریبات میں والدین اور علاقے کے سرکردہ گان کو بلا کر تربیت اولاد سے پہلے تربیت والدین کے موضوع پر لوگوں کو متحرک کرنے کی کوشش کی ۔
انکی موٹیوشنل پروگراموں کا نہایت مفید نتائج سامنے آئے اور ایک معاون کمیونیٹی سسٹم کو رواج دیا ۔
4 ۔ کمیونٹی نے مخیر حضرات سے رابطہ کرکے سکول کی عمارت کیلئے زمین کی فراہمی کیلئے بھاگ دوڑ شروع کیا ۔
5 ۔ برادری کے ایک جوان اشرف حسین نے مخیر حضرات سے رابطہ کرکے انہیں نائلہ رضوی سے ملایا اور نائلہ رضوی نے اپنے سماجی خدمات کے تجربے کی روشنی میں اشرف سمیت مخیر حضرات کو اچھے سے اس نیک کام کی جانب راغب کیا ۔
6 ۔ نائلہ رضوی کے کامیابی کی اصل وجہ سکول ٹائم سے ہٹ کر کام کرنا ہے ۔
7 ۔ سابق وزیر اعلیٰ مہدی شاہ صاحب ، سابق سینیٹر وزیر حاج اکبر تابان صاحب اور محکمہ تعلیم نے بار ہا سکول عمارت کی تعمیر کیلئے ADP رکھے لیکن زمین کیلئے سرکاری معاوضہ مارکیٹ ریٹ سے بہت ہی کم ہونے کے باعث ہر بار تعمیر ممکن نہ ہو سکا ۔
لیکن یہ نائلہ رضوی کی حسن تدبیر اور محنت تھی کہ مخیر حضرات اور کمیونیٹی کے فعال کارکن اشرف برولمو کی تعاون سے انہوں نے قیمتی زمین بطور عطیہ حاصل کرکے سرکاری خزانے کو لاکھوں روپے کا فایدہ پہنچائی اور تعلیمی شعبے میں بہترین کار کردگی دکھائی ۔
8 ۔ وہ اپنے ذاتی خرچ سے بھی سکول کے کام کرتی ہے ۔ اس کے علاؤہ سکول کی بچوں کیلئے یونیفارم ، کتابیں ، کاپیاں اور دیگر ضروری چیزیں فراہم کرنے کیلئے بھی مخیر حضرات سے مسلسل رابطے میں رہتی ہے ۔
۔ نائلہ رضوی ایک سماجی کارکن اور ماہر تعلیم بھی ہے انہوں نے گورنمنٹ سکول کو کسی اچھے سے پرائیوٹ سکول کے مقابلے میں لاکر ثابت کیا کہ اگر کام کریں تو کوئی بہانہ نہیں چلتی لیکن کام نہ کرنے کے سینکڑوں جائز بہانے ہو سکتے ہیں ۔
الحمد للّہ آج انکی حسن تدبیر اور شوق تعلیم کے بدولت پی ٹی اے فعال ہے ۔
9 ۔ گورنر گلگت بلتستان ، محکمہ تعلیم و دیگر محکموں کے اعلیٰ آفیسران اور سماجی شخصیات کے بدولت SDA کے زریعے بہترین عمارت قلیل عرصے میں تعمیر ہوکر اسکا فسٹ فلور بھی تکمیل کے مراحل میں ہے ۔
سکول میں داخلے کیلئے اتنا دباؤ ہے کہ آج بہت سے والدین دور دراز سے بھی یہاں بچوں کو داخلے کیلئے مختلف قسم کے سفارشات کے ساتھ آرہے ہیں لیکن کلاس روم اور سٹاف کی کمی کے پیش نظر پی ٹی اے نے مزید داخلہ دینا بند کردیا ہے ۔
10 ۔ انکی حسن کار کردگی کے اعتراف میں اشرف برولمو گورنمنٹ سکول کو 2021 کا گلگت بلتستان کا بہترین سکول ہونا کا اعزاز بھی ملا ۔
اس کے علاؤہ بھی انکے نام بہت سی اعزازی ایوارڈ اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ وہ جناب چیف سیکریٹری صاحب کے اس قدر دانی کے منصوبے میں شامل ہوسکیں ۔
تحریر و تحقیق
بو علی رضوانی

0 Comments