اردو نوحے
![]() |
| Urdu Noha Lyrics |
نوحہ بی بی سکینہؑ
![]() |
| Noha bibi Sakina s.a |
وہ سر تیرا لئے آغوش میں یوں خاک پر سوئی سکینہؑ پھر نہ جاگی میں جگاتا رہ گیا بابا
میں اس منظر پہ بس آنسو بہا بہاتا رہ گیا بابا
یہ تم خود جانتے ہو وہ بہت حساس بیٹی تھی
یتما شمر کہتا تو وہ بابا کہہ کے روتی تھی
وہ غم نیزے پہ بھی تجھ کو رولاتا رہ گیا بابا
نہ جاننے کتنی شی در سے وہ تجھ کو دیکھ کر روئی
قضا کے بعد تھی تیرے بھی چہرے پر نظر اس کی
میں زینب کو وہ منظر بھی دیکھاتا رہ گیا بابا
تمہارے بعد میں بیٹی اسے کہتا تھا جب اکثر
تڑپ کر در کو ذندان کے وہ تھکتی خاک سے اس نے
میرا غم اس کی آنکھوں کو رولاتا رہ گیا بابا
......................................
نوحہ چہلم
2019
کلام : علی صابر
حشر سے کم تو نہیں تھا مرحلہ بازار کا تیری زینبؑ بے ردا تھی اور میں لاچار تھا
باپ کی تربت پہ گر کر رو کے عابدؑ نے کہا تیری زینبؑ بے ردا تھی اور میں لاچار تھا
پوچھنا مت مجھ سے بابا وہ ستمگر کے ستم
کس طرح سے سر جھکائے سہہ لیا ہے میں نے غم
پشت پر تحریر ہے (ہائے) میرے ستم بازار کا
تیری زینبؑ
مانگ کر بھی مجھ کو امت سے ملی نہ اک ردا
اس قدر بابا تیرا بیٹا ہوا مظلوم تھا
سنتے جب اغیار کے (ہائے) طعنے جگر جلتا رہا
تیری زینبؑ
حق تھا کہ زہراؑ کی بیٹی کو ردا دیتے لعیں
مارتے نہ تازیانے نہ رلاتے یوں لعیں
نہ پھراتے شام والے ان کو در در بے ردا
تیری زینبؑ
جس کا پردہ بن کے آیا تھا وطن سے کربلا
اس کو بازار جفا میں دیکھے کیسے بے ردا
اس لیے غازی کا سر نہ ٹھہرتا نیزے پہ تھا
تیری زینبؑ
قید خانے کی اذیت کرتا ہوں تجھ سے بیاں
کھل نہ پائی بہن کے ہاتھوں سے بابا رسیاں
بے کفن وہ بھی گئی (ہائے) دنیا سے جیسے تو گیا
تیری زینبؑ
دستہ حسینہ حسین آباد سکردو
............................................
نوحہ عاشورہ
2019
کلام : عارف سحاب
بولی شبیرؑ کے لاشے پہ سکینہؑ گر کر آپ ہوتے تو طمانچے نہیں لگتے بابا
سر سے اماں کی بھی غربت میں نہ چھنتی چادر آپ ہوتے تو طمانچے نہیں لگتے بابا
اس طرح سے میرے رخسار نہ ہوتے ذخمی
کھینچ کر کر بالیاں کانوں سے رُلاتا نہ کوئی
مار نہ پاتا کوئی مجھ کو یتیمہ کہہ کر
تازیانے مجھے لگتے ہیں مسلسل ہائے
ہاتھ عمو کے اگر تن پر سلامت ہوتے
شمر کے ہاتھ نہ اٹھ سکتے کبھی بھی مجھ پر
آپ کا اُٹھ گیا سایا تو ملا یوں پرسہ
تازیانے بھی لگے مجھ کو جلایا کرتہ
مجھ کو مارا گیا غربت میں یتیمہ کہہ کر
ٹھوکریں مار کے اے بابا گراتے ہیں مجھے
شام کے لوگ ستم کر کے رلاتے ہیں مجھے
دیکھئے زخم طمانچوں کے میرے چہرے پر
دستہ عباسیہ کرسمہ تھنگ الڈینگ سکردو
.............................
نوحہ چہلم
2019
کلام شمس جعفری بلتستانی
تازیانوں سے ہوئی تحریر رُودادِ سفر شام والوں کے ستم عابدؑ کبھی بھولا نہیں
یاد آتا تھا ہجومِ عام اور زینب کا سر شام والوں کے ستم عابدؑ کبھی بھولا نہیں
کربلا سے شام تک سہتی رہی ہر رنج و غم
کیا بتاوں میں تمہیں کیا کیا ہوئے اس پر ستم
چین پل بھر بھی سکینہؑ نے کبھی پایا نہیں
............شام والوں کے ستم
مجھ سے پوچھو دشت میں جو بے کفن تھا کون تھا
کس کا لاشہ تین دن تک دھوپ میں جلتا رہا
کون تھا جس کو مسلمان نے دفنایا نہیں
.......شام والوں کے ستم
شام کے دربار میں فضّہؑ کو حامی مل گئے
ہم غریبی دیکھ کر اپنی لہو روتے رہے
نصرت زینبؑ کی خاطر کوئی بھی آیا نہیں
.........شام والوں کے ستم
نوک نیزہ پر تلاوت جب بھی کی شبیر نے
شام والوں سے کہا یہ زینبؑ دلگیر نے
اے مسلماں کیا یہ قاری میرا ماں جایا نہیں
.........شام والوں کے ستم
عمر بر عابدؑ کی آنکھیں اس لیے بہتی رہیں
آل احمدؐ کے مصائب کا صحیفہ بن گئیں
کونسی منزل تھی جس پر وہ لہو رویا نہیں
.........شام والوں کے ستم
دستہ حسینیہ حسین آباد سکردو
....................................
نوحہ چہلم
2019
کلام : علی صابر
گھل نہ پائی جس کی گردن سے ستم کی رسّیاں رہ گئی وہ آج تنہا شام کے زندان میں
کمسنی میں سہہ گئی جو قید کی ہر سختیاں رہ گئی وہ آج تنہا شام کے زندان میں
جس کا مانگا تھا کنیزی میں دیارِ غیر میں
نام اُس کا لے کے روتی تھیں سفر میں بیبیاں
........رہ گئی
اب ذدا غازی کو دے آواز آئے وہ یہاں
طنز کی برساتے ظالم اس طرح تھے برچھیاں
...........رہ گئی
جس کو رونے پر طمانچوں سے کیا جاتا تھا چُپ
آرہی ہیں اب بھی زندانوں سے اُس کی سسکیاں
......رہ گئی
دل پہ بابا سے جُدائی کا لیے صدمہ گئی
جس کے دامن کو جلایا اور چھِنی تھیں بالیاں
......رہ گئی
سر اٹھاتی تو سکینہؑ دیکھتی بابا کا سر
سر جُھکائے تو نگاہیں دیکھتی تھیں بیڑیاں
......رہ گئی
قبر کو سینے لگا کر یہ کہا بیمار نے
تیری قسمت میں لکھی ہے بہن یہ تاریکیاں
....رہ گئی
قید خانے سے رہائی کی خبر سنتے ہی ہائے
بڑھ گئیں کچھ اور بھی زینبؑ کی تھیں بے تابیاں
.....رہ گئی
دستہ حسینیہ حسین آباد
....................................
نوحہ چہلم
رہائی مِل گئی کربل چلو اُٹھو سکینہؑ بہن کی قبر پر سجادؑ روکر کہہ رہاے
نظر کے سامنے ہر پل رہے گا تیرا چہرہ بہن کی قبر پر سجادؑ روکر کہہ رہا ہے
یہ شہر شام ہے ظالم یہاں بستے ہیں بہنا
قدم زندان سے کیسے رکھے باہر یہ بھیا
اندھیری قید میں اب بھی ہے تو قیدی سکینہؑ
سکینہؑ کسطرح سجادؑ وہ منظر بُھلائے
کہ جب تُو لاش بابا پرگری تھی رن میں ہائے
جُدا درّے لگا کر تجھ کو بابا سے کیا تھا
دیارِ کربلا بازارِ کوفہ قیدخانہ
یتیمی بے بسی زخمی بدن اور آہ و گریہ
غموں کا بار یہ کیسے بہن تو نے اُٹھایا
ہوا آزاد ہوں پائی ہے میں نے بھی رہائی
مگر ذندہ رہوں گا تیرے غم میں بَن کے قیدی
بُھلا نہ پائے گا تدفین تیری اب یہ بھیا
تیری یہ بالیاں تربت پہ اُن کی میں رکھوں گا
چچا عباسؑ کو پھر حال تیرا یہ کہوں گا
خبر ہے کیا تجھے ہائے مر گئی ننھی یتیمہ
ستم ہوتے تھے میرے سامنے تجھ پر یتیمہ
بچانہ پایا تجھ کو ہائے پابند رسن تھا
میں تب لاچار تھا مجھ کو سکینہؑ معاف کرنا
دستہ عباسیہ کرسمہ تھنگ الڈینگ سکردو
.............................................
نوحہ چلہم
2012
زخم سینے میں شام کا لے کر خون روتا تیرا سجادؑ آگیا بابا
موت سکینہؑؑ کی بازار کا سفر مجھ کو رُلا گیا بابا
تیرا سجادؑ آگیا بابا
اُسکے دل میں بھی رہائی کا تھا ارمان بڑا
میں نے پردیس میں دفنایا جنازہ جس کا
لوٹ کر آنہ سکی تیری سکینہؑ بابا
تیرا سجادؑ آگیا بابا
زخمی رُخسار کو سہلاتی ہوئی روتی ہوئی
بچی ذنداں کے اندھیرے میں تجھے روتی رہی
اُس کے ہونٹوں پہ رہا کرتا تھا بابا
تیرا سجادؑ آگیا بابا
ہم جو دربار میں مجرم کی طرح لائے گئے
اماں فضّہؑ کی حمایت میں حبش والے اٹھے
تیرے بیٹے کا مگر کوئی نہیں تھا بابا
تیرا سجادؑ آگیا بابا
پھوپھی زینبؑ بھی جو باغی کی بہن کہلائی
بابا اُسوقت مجھے تیری بہت یاد آئی
میں رورو کے تجھے تب تھا بلایا بابا
تیرا سجادؑ آگیا بابا
مجھ پہ بازار میں کیا گزری بتاوں کیسے
جس کا دل چاہے وہی آکے ستاتا تھا مجھے
شام والوں نے مجھے خون رُلا یا بابا
تیرا سجادؑ آگیا بابا


0 Comments