" عالمی یوم خوراک اور ہم "
عالمی یوم خوراک کو بھی عاشورا کی طرح منانا چاہئے !!!!!
بو علی رضوانی:
غالبا یہ 2003/4 کا ایک سچا واقعہ ہے کہ تقریبا ایک مہینے تک گلگت سکردو روڈ بند رہا اس وقت سید حیدر شاہ رضوی کی قیادت میں کئی بار یاد گار شھدا پہ احتجاجی مظاہرے ہوئے اور سید حیدر شاہ رضوی اور انکے دوستوں نے دور اندیش و پر جوش خطابات کئی ۔
اس وقت آستانہ چونگی گندم گودام پہ روزانہ گندم کیلئے لوگوں کا رش ہوتا تھا کئی کئی دن قسمت یاوری ہوں تب گندم مل جاتا تھا ۔
ایک ٹھیکیدار ٹائپ کا امیرانہ شان و شوکت والا آدمی کئی دنوں سے لائن میں کھڑا تھا تیسرے دن انہوں نے ایک انوکھا احتجاج کیا !!!!! اس احتجاجی کے تقریروں میں تھوڑا ذاتی اضافے کے ساتھ اپکو اس اجنبی کی باتیں سناتا ہوں آئیے غور سے تحریر کو آخیر تک پڑھئیے شکریہ۔
وہ اچانک مجمع کے سامنے آکر چیخنے چلانے لگا وہ کہہ رہا تھا !
لوگو اس وقت میرے پاس کاغذ کی نوٹوں کی کوئی کمی نہیں ، آج میرے پاس سونے اور جواھرات کے کان بھی ہوتے تو کیا فایدہ ؟؟!!! میں اور میرے بچے بھوگ سے بیحال ہیں۔
پھر وہ جیب سے ایک ہزار کا نوٹ نکال کر فضا میں لہراتے ہوئے کہتا ہے لوگو دیکھو یہ ایک ہزار کا نوٹ ہے ایک مزدور کی پندرہ دنوں کی تنخواہ !!! لیکن آج کاغذ کا یہ ٹکرا ہمری پریشانیوں کو ختم نہیں کر سکتا !!! یہ میرے اور میرے بچوں کا پیٹ نہیں بھرا سکتا مجھے اسکی نہیں گندم کی ضرورت ہے ۔
یہ کہہ کر اس آدمی نے جیب سے لائٹر نکالا اور نوٹ کو آگ دکھادی منظر عجیب تھا ۔
نوٹ کو جلانے کے بعد وہ ایک بار پھر مجمع سے مخاطب ہوکر کہتا ہے :
لوگو آج ہم سب کی حالت تقریبا ایک جیسی ہیں بھوگ میں ہم سب مبتلاء ہیں لیکن ان سب کا نہ حکومت زمہ دار ہیں اور نہ کوئی اور بلکہ ہم سب نے مل کر اس مصیبت کو دعوت دی ہیں یہ ہماری اپنی ہاتھوں کی کمائی ہیں اسکی ہم خود زمہ دار ہیں کیوں !؟؟؟؟!!! کیونکہ :
ہم نے ہری بھری کھیتوں کو چراگاہ بنادیئے ، ہم نے انسانی خوراک کو کبوتر اور دیگر پالتو جانوروں کی خوراک بنادیے ، ہم نے زمین کو جو کہ ماں ہوتی ہے بانجھ بنادیئے ، ہم نے کھیتی باڑی سے ہاتھ اٹھا لئے ، ہم نے کفران نعمت کئے اور اب ایک کلو گندم کیلئے آج ہم کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں اپنا ایمان اپنی غیرت ایک کلو اناج کیلئے داؤ پہ لگانے پر آمدہ ہیں ۔
کیوں ؟ اسلئے کہ ہم نے اللہ کی امانت میں خیانت کی ہم نے اپنے پانی اور مٹی کے ازدواج کو طلاق دلوائیں ، ہم نے اپنے نیچرل مویشیوں کی جگہ بدیسی گائے اور جانور رکھ لئے اور مقامی اناج کے بدلے دور سے آئے اناج پہ انحصار کئے ، ہم نے اپنے پھلدار درختوں کو کاٹ کر جلادئیے اور دور کے پھل فروٹ ، دور کے گوشت اور دور کے پاپڑ کھا کر خوب موٹے تازے ہوئے ہیں ۔
اب بھی ہوش کرو خدا سے معافی مانگو اور اپنے مٹی سے پیار کرو ، اپنے مٹی کا تکیہ بناؤ۔
کہنے کو بہت کچھ ہیں لیکن کاش سننے والے ہوتے تو کہہ جاتا ۔
مجمع یوں اس اجنبی کو سن رہے تھے جیسے انکے سروں پہ پرندے بیٹھے ہوئے ہوں ۔
بس اتنا کہہ کر وہ شخص ایک طرف چلاگیا ۔
روڈ کھل گیا پنجاب سے گندم آگئی اور سب کچھ بھول کر لگے پھر کاغذ کے نوٹ بنانے ۔
آج پھر قدرت خبردار فرمارہا آج محکمہ خوراک نے فی افراد خانہ صرف چار کلو گندم دینے کا پلان بنا لیا ہے کیونکہ تحریک انصاف اور پی ڈی ایم کی حکومتوں کے بھیج عوام پس کے رہ گئی دونوں حکومتیں خدا کا عذاب بن کر ہم پہ مسلط ہوچکے ہیں ۔
یعنی اب چار کلو گندم ماہانہ ملنے کا مطلب یہ ہوا کہ روٹی صرف ایک ٹائم ۔
لیکن لیکن لیکن !!!!!!
ہمارے دانشوروں اور نام و نہاد سیاستدانوں اور جماعتوں کو سیاست اور سستی شہرت سے فرصت ہوں تو عالمی یوم خوراک مناتے نا ۔ !!!!!
میں کہتا ہوں عالمی یوم خوراک کو بھی عاشورا کی طرح منانا چاہئے عاشورا نہ ہوں تب بھی دین نہیں اور اگر بھوکے ہوں تب بھی دین نہیں رہے گا ۔
بو علی رضوانی ۔

0 Comments