Header ad

After a lamp and a dim light

 "ایک چراغ اور بجھا روشنی کے بعد  " 

تحریر نمبر 3: بو علی ضوانی


1947 

میں علاقہ پرک بلتستان  کے محسن ، خادم اہلبیت علیھم السلام ، مبلغ اسلام حضرت آیتہ اللہ شیخ علی المعروف " برولمو اپوچو " کے گھر 
پہلا خوشی دیکھا گیا ۔

حضرت آیتہ اللہ شیخ علی المعروف

بیٹے کا نام عبد اللہ رکھا شیخ صاحب کی خوشی میں پورا علاقہ خوش تھا ہر جگہ سے لوگ مبارکبادی کیلئے حاضری دیتے ۔

شیخ عبداللہ برولمو


بچے کی تعلیم و تربیت آپ نے خود سنبھالا ابتدائی تعلیم سے  خود نے اسے آرستہ کیا  ۔

اس بچے کی ایک عادت یہ تھی کہ وہ ہمیشہ اپنے والد کے گٹھنے سے ٹیک لگائے کلاس ، مجالس اور دعوتوں اور ہر جگہ جاتے ۔


اس بچے کی خوش قسمتی یہ تھی کہ اس نے  ایک یونیورسٹی جیسے گھر میں آنکھ کھولا جہاں درجنوں تشنگان علم صبح و شام حتی کی رات کو بھی حاضر دیتے ۔


وہ اپنے والد بزرگوار کو  ہمیشہ وعظ ونصیحت ، کرتے دیکھ کر بہت کچھ سیکھ رہا تھا وہ شرعی تصفیوں اور فیصلوں کو بھی  بغور دیکھتا ،

 کتاب کے زریعے پڑھائی سے زیادہ وہ اپنے والد کے گفتار و کردار سے علم حاصل کرتا رہا ۔


27 سال اپنے والد بزرگوار کے زیر سایہ رہنے کے بعد  عملی زندگی کا آغاز ہوا۔

آپ صاحب مطالعہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک عام مزدور کی طرح گھر کے سارے کام خود کرتا تھا ۔

آپ علماء کا بہت احترام حتی کہ ایک ابتدائی دینی طالب علم کا بھی بہت عزت فرماتا تھا ۔

رسائل و جرائد سے لیکر علمی کتابوں کا ایک ذخیرہ آپکے پاس تھا ۔

تحفے میں کتاب سے زیادہ کسی چیز کو پسند نہیں فرماتے تھے ۔ آپ سے ہی راقم نے آپکے والد بزرگوار کی حالات زندگی قلمبند کیا ۔

آپ کی گفتگو ہمیشہ  اپنے والد کی طرح جس محفل میں بھی  ہوتا قال رسول اللہ قال امام جعفر صادق سے شروع ہوتا  ۔

آپ باعمل اور باکردار شخصیت کے حامل 

 تھے بزرگوں کے بقول ہم نے کبھی اپکو کھیل کود اور فضول کاموں میں نہیں دیکھا ۔

 

1974 

کا سال علاقہ پرک و بلتستان کیلئے نہایت سوگوار سال تھا کیونکہ اس برس دوسری دفعہ اپو چو شیخ علی پر فالج کا اٹیک ہوا کچھ عرصہ بیمار رہنے کے بعد انکا انتقال ہوا ۔

انکے انتقال کے بعد لوگوں نے شیخ عبد اللہ کو والد کا مسند  سنبھالنے کی اپیل کی تب سے 09 مئی 2022 تک تقریبا پچاس برس نہایت خاموشی سے اپنے والد بزرگوار کے مسند  کو خوب  سنبھالے رکھا ۔

صبرو استقامت کا یہ عالم تھا کہ دونوں جوان لڑکوں کا  انکے بڑھاپے کا سہارا انکے زندگی میں ہی حادثات کا شکار ہوا ۔

بیٹے کی سنائی سنایا گیا تو گھر والوں سے سختی کے ساتھ کہہ رہا ہے پہلے نماز پڑھیں ۔

جوان بیٹے کا نماز  جنازہ خود ادا کرنا بھی صبرو و شکر کی ثبوت کیلئے کافی ہے ۔

لیکن عزیز بھائی کے انتقال نے انکا کمر توڑ کے رکھ دیا کہتا تھا بھائی  

.کی موت بہت دشوار ہے

شیخ رضا برولمو


اپنے گاؤں اور محلے میں نماز جماعت کا قیام ، بطور میر واعظ امرؤ بالمعروف نھی عن المنکر  بطور معلم درس احکام و قرآن  ، بعض الاوقات بطور مصلح لوگوں کے معاملات و تنازعات میں تصفیہ کنندہ ، دعا گو ان تمام خدمات کے باوجود  نہ کسی ستائش کا خواہاں نہ کسی قسم کی دولت یا معاوضے کا طلب گار !!! اہالیان برولمو کی تمام شرعی مشکلات میں راہنمائی کا فریضہ انجام دیتے دیتے بروز پیر تیسری دفعہ فالج کا حملہ ہوا تو اپنے عزیز و ساتھی اخون محمد شعبانی  سے نماز جماعت پڑھانے کی درخواست کے ساتھ سی ایم ایچ چلا گیا ۔

کسی کیا معلوم تھا کہ   یہ سفر  انکی آخری سفر ہے ۔  !!😢



رات دس بجے اس جہان فانی کو خیر باد کہہ کر اپنے خالق حقیقی سے جاملے اناللہ و انا الیہ راجعون😭


سینکڑوں مرد و زن اس خبر کے سنتے ہی انکی مکان پہ جمع ہوگئے آہوں اور سیسکیوں کا ایک طوفان تھا ، اشکوں کا ایک سمندر تھا ،ہر سو فضا سوگوار ، انکی جسد خاکی کو مسجد میں رکھا گیا وہاں انکے شاگرد اور مومنین قرآن پاک کی تلاوت مصروف  ۔



انکی جنازے کو امام بارگاہ لے جایا گیا جہاں وہ خطابت فرماتے تھے ، جس ممبر سے وہ ہمیشہ مجلس عزا سے خطاب کرتے تھے اس ممبر کے سامنے آج انکا ایک ادنی سا شاگرد (راقم ) انکی ایصال ثواب کیلئے امام مظلوم حسین شھید کربلا علیہ السلام  کی مصائب بیان کر رہا تھا انہوں نے اپنے استاد کے جنازے کو سامنے رکھ کر کہا اے امام بارگاہ کے درودیوار !!!!!         گواہ رہنا شیخ عبداللہ خادم حسین علیہ السّلام تھا ، ذاکر حسین علیہ السّلام تھا ، خدا یا انہیں حسین و آل حسین کے ساتھ محشور فرما ۔


لوگ دھاڑیں مار مار کر رو رہے تھے آخر کیوں نہ روتے آج برولمو والے اپنے شفیق استاد سے ، روحانی باپ سے جدا ہو گئے ، آج بزرگوں کو ایک مرتبہ پھر اپوچو شیخ علی کی وفات کا غم تازہ ہوا۔

امام بارگاہ سے قبرستان تک امام مظلوم پہ نوحہ خوانی کرتے ہوئے سینکڑوں لوگوں نے  تشیع  جنازہ میں شرکت کی ۔


نماز جنازہ میں بلتستان کے چوٹی کے باعمل علمائے کرام کے علاؤہ کثیر تعداد میں مومنین نے شرکت کی ۔



آخر میں چند شعر نما جملے بطور تعزیت نامہ عرض کرتا ہوں ؛


  چراغ کے بعد چراغ بجھ رہے ہیں شمس تابان کے بعد 

وہ یاد گار یں اب ہمیں چھوڑ جارہے ہیں باھم  یکے بعد


وہ علم و عمل کا پیکر صبرو استقامت کا گوہر

جدا ہوئے ہم سے ، نہیں اب  لذت خطاب آپ کے بعد


جتایا کبھی نہ منت نہ احسان ہر دم رہا خدمت گزار

اب کون ہوگا تجھ سا  مہر بان قوم  پہ  تیرے بعد 

رضوانی اداسی بہت ہیں تیرے قوم پہ ہائے ہائے

یہ سوگ کا عالم فضائے دھر میں ہے تیرے بعد۔😢😢😭


بو علی رضوانی 

انکا ایک ادنی سا شاگرد




TEHREER - تحریر🖊


تحریر نمبر 1 : بو علی رضوانی

ہم کہاں کے سچے  ہیں؟


  • تحریر : ذوالفقار علی


Post a Comment

0 Comments