Header ad

سکردو \ پریس ریلیز بو علی رضوانی

 سکردو \ پریس ریلیز




میونسپل لائبریری سکردو میں 

بلتستان میں بڑھتی ہوئی خود کشیوں کی روک تھام کیلئے ایک آگاہی پروگرام منعقد کیا گیا ۔


 اس پروگرام کو قارین کتب خانہ اور لائبریری عملہ نے منظم کیا ۔

تقریب میں گورنمنٹ پرائمری سکول چھومک کے اساتذہ ،طالبات اور مختلف تعلیمی اداروں کے  نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد نے شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ریجنل ہسپتال سکردو کے ماہر نفسیات ڈاکٹر شاہدہ بتول نے بتایا کہ ہمارے معاشرے میں دماغی امراض کے بارے میں  عدم آگاہی کے باعث مشکلات میں اضافہ ہو رہی ہیں ۔ مارچ سے اکتوبر 2021 تک صرف بلتستان ریجن  میں  12/13 خود کشی کے واقعات رپورٹ ہوئی ہیں ۔

انہوں نے جامع انداز میں  شرکاء کو ان وجوہات سے بھی آگاہ کیا جن کے باعث ایک نوجوان اپنے آپ کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔

منفی سوچ ،  بے تحاشا خواہشات ، عدم تربیت اور دین سے دوری خاص طور پر والدین کا بچوں کیلئے ٹائم نہ دینا اور ان سے دوری کو بنیادی وجوہات قرار دیتے ہوئے تاکید کیا کہ والدین اپنے بچوں سے دوستانہ ماحول میں انکے مسائل سمجھنے کی کوشش کریں اور انہیں مثبت سوچنے کی طرف راغب کریں یا کسی بھی ماہر نفسیات سے رجوع کریں ۔


انہوں نے سماج میں منشیات کے بڑھتی ہوئی استعمال پر تشویش ظاھر کرتے ہوئے کہا کہ ایک بڑی وجہ منشیات کا استعمال بھی ہے لھذا معاشرے کو منشیات کی لعنت سے پاک رکھنے کیلئے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ۔


ڈاکٹر شاہدہ بتول نے اپنے لکچر میں انکشاف کیا کہ انہوں نے پچھلے دس دنوں میں مختلف دیہاتوں کا دورہ کیا اور ہر گاؤں میں 25/30 نفسیاتی مریضوں کو پایا ۔


انہوں نے اساتذہ ، علماء، والدین اور سماجی شخصیات کو آگے بڑھ کر لوگوں میں دماغی امراض اور اسکی بنیادی وجوہات پر آگاہی دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم نے اپنی زمہ داریاں ادا نہیں کی تو یہ رجحان انتہائے خطرناک حد تک جاسکتی ہے ۔


تقریب سے گورنمنٹ پرائمری سکول چھومک کے ہیڈ ٹیچر میڈیم ناظرہ فاچو نے خطاب کرتے بتایا کہ والدین کا اپنے بچوں کو دوسروں سے مقابلہ کرانا اور نمبرینگ گیم میں مبتلا کرنا بچوں کو دماغی مریض بنا دیتی ہیں  اور انکی دماغ کو منفی سوچ میں مبتلاء کرتے ہیں  والدین کے جانب سے ریا کاری دکھاوے کیلئے بچوں پر دباؤ خود کشی کے وجوہات میں اہم وجہ ہے ۔


انہوں نے کہا کہ والدین اپنے سوسائیٹی میں فخرو مباہات کیلئے اپنے بچوں کو تباہ کر رہے ہیں ۔


انہوں نے تخلیقی تربیت پر زور دیتے ہوئے بتایا کہ ہمارے معاشرے میں بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو ابھر نے نہیں دیتا جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں تخلیقی تربیت پر زیادہ توجہ دی جاتی ہیں ۔


آخر میں لائبریرین میونسپل لائبریری سکردو نے تمام مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ لائبریری کا مقصد آگاہی اور شعور دینا ہے جو کہ کتابوں اور صاحبان علم کے زریعے ہی ممکن ہے انہوں نے کہا کہ نفسیات کے موضوع پر درجنوں کتابیں لائبریری میں موجود ہیں جنہیں پڑھ کر ہم اپنے آپ کو اور اپنی سوسائٹی کو بہتر کر سکتے ہیں ۔


انہوں نے اس پروگرام کے کوآرڈینیٹر طالب علم شجاعت حسین کی کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انکا بھی شکریہ ادا کیا ۔


Post a Comment

0 Comments